ایک انسان کوبچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف

خون ایک ایسی بنیادی انسانی ضرورت ہے کہ بسا اوقات ہنگامی صورت میں انسانی زندگی کا انحصار خون کےعطیے پر ہی ہوتا ہے، ایسے لوگ جو خون دے کر کسی کی زندگی بچانے کا سبب بنتے ہیں وہ معاشرے کےاصل ہیرو ہیں اور اعلیٰ انسانی اقدار اور ہمدردی کے جذبے کے حامل ایسے لوگ واقعتاً قدرت کا تحفہ ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔دوسری جانب ماہرین کےمطابق خون دینے والا کسی دوسرے انسان کی جان بچانے کاسبب تو بن ہی رہا ہوتا ہے،اس کے علاوہ خون دینااس کی اپنی صحت کابھی ضامن ہے۔ چھ ماہ میں خون دینے سے انسان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت سالانہ اوسطا ًخون کی 30لاکھ بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہےجن میں سےتقریبا ًپندرہ لاکھ ہی میسر ہوتی ہیں،ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خون کا رضاکارانہ عطیہ دینے کےحوالےسے نہ صرف شعور و آگہی بیدار کی جائے بلکہ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.