ایسٹردھماکوں کے بعد مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیزمہم

سری لنکا کے مسلمان وزرا سمیت 9 مسلم اراکین پارلیمنٹ نے ایسٹر دھماکوں کے بعد ملک بھر میں مسلم کمیونٹی کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز حملوں پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔صدر میتھری پالا سریسینا کے حامی رکن اسمبلی کی جانب سے سرفہرست تین مسلمان سیاست دانوں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے بعد 9 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے جن میں کئی وزرا شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق مقامی مذہبی لحاظ سے مرکزی شہر کینڈی میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا تھا اور مذہبی رہنما اتھرالیے رتنا نے دو صوبوں کے گورنروں اور کابینہ کے ایک رکن کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد کا تعلق مبینہ طور پر ایسٹر بم حملوں کے ذمہ داروں سے ہے۔استعفیٰ دینے والے ارکان پارلیمنٹ کا تعلق ملک کی مرکزی جماعتوں سے ہے، ارکان پارلیمنٹ نےموقف اپنایا کہ ایسٹر حملوں کی آزادانہ تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے وہ اپنے عہدے چھوڑ رہے ہیں،ارکان نے وزیراعظم رانیل وکرامے سنگھے کی حکومت کی حمایت بدستور جاری رکھنے کا اعلان کیا۔رواں برس اپریل میں کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر گرجاگھروں اورہوٹلوں میں خودکش حملے کیے گئے تھے جن می 300 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 500کےقریب زخمی ہوگئےتھے۔دھماکوں کے بعد مسلم مخالف مظاہروں کے دوران مسلمانوں کے 200 سے زائد گھروں اور دکانوں کو تباہ کیا گیا،واقعات کےبعد حکومت نےملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.