ایران کھُل کر جوہری معاہدے سے انحراف پر اُتر آیا

ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایرانی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانی شروع کر دی ہیں اور ایران اب 3 کے بجائے 20 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کرسکتا ہےجس کیلئےجدید اورتیز ترین سینٹری فیوجز کا استعمال کریں گے،ایسے 40 جدید سینٹری فیوجز اس وقت قابلِ عمل ہیں۔ترجمان ایرانی نیوکلیئر ایجنسی نے جوہری معاہدے کو بچانے کے حوالے سے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ساتھیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا،،،انہوں نے کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ انہیں جلد کرنا ہوگا،،کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.