امریکی حکومت کی جانب سےسپیس کمانڈ قائم

ٹرمپ نے ایک صفحے کی یاداشت پر دستخط کیے جس سے محکمہ دفاع کو نئی خلائی کمان قائم کرنے کا اختیار مل گیا۔ اس کمان کا ہدف خلا سے فوجی کارروائیوں کو منظم کرنا، ان کی نگرانی کرنا، اس کے تکنیکی پہلوؤں میں پیش رفت کرنا اور خلا میں امریکی اثاثوں کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ کرنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق سپیس کمانڈ کے لیے فوج سے 600 افراد لیے جائیں گے تاہم آنے والے برسوں میں خلائی کمان میں مزید 1000 اہل کاروں کا اضافہ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں نے اس سال کے شروع میں یہ رپورٹ دی تھی کہ روس اور چین مستقبل کی جنگ کے لیے ایسے سیٹلائٹ شکن ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو تباہ کن بھی ہوں گے اور غیر تباہ کن بھی۔ اور اس نوعیت کے سائبر حملوں کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں جن کا ہدف سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ہو سکتا ہے۔ جس سے یہ خطرہ بڑھ سکتا ہے کہ جنگ کے دوران فوجی الیکٹرانک کمیونیکیشن اور نیوی گیشن کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.