امریکااورایران میں جاری کشیدگی میں شدت آگئی

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے تہران کے دورے پر آئے جرمن ہم منصب ہائکو سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکاکا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا کوئی جواز نہیں، 2015کے ایٹمی معاہدے کے باوجود امریکا کی جانب سے نئے ایٹمی معاہدے کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو خبردار کرتےہوئے کہا وہ تہران کے خلاف معاشی جنگ کے آغاز کے بعد خود کے محفوظ ہونے کی امید نہ رکھے۔جرمن ہم منصب سےملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت موقف اپنایا،جوادظریف کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کیا ہے اور اس خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد حل معاشی جنگ کا خاتمہ ہے،مزید کہا کہ جو بھی ہم سے جنگ کا آغاز کرے گا وہ اس کا اختتام کرنے والا نہیں ہوگا۔بات چیت کےدوران جرمن وزیر خارجہ ہائکو کا کہنا تھا کہ ایران کیلئے بہترہوگا کہ وہ 2015کے ایٹمی معاہدےپر عمل درآمد جاری رکھے۔ واضح رہے کہ جرمنی کے وزیر خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے دورے پر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے مگر ہم معاہدے کو ناکام ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں’۔خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران سے کیے جانے والے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.