افغان پناہ گزینوں کی باعزت واپسی کے لیےسمجھوتہ

سہہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت برائے سرحدی علاقہ جات شہریار آفریدی نے کی،،،اجلاس میں 12 نکاتی مشترکہ اعلامیے میں پاکستان افغانستان اوراقوامِ متحدہ نے پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین کی رضاکارانہ واپسی کے سہہ فریقی معاہدے کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔جبکہ تینوں فریقین اس بات کو دہرایا کہ افغانستان سے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کو 40 سال ہوگئے ہیں،،، اس کے ساتھ 4 دہائیوں سے افغان پناہ گزین کو پناہ فراہم کرنے پرحکومت پاکستان کی میزبانی کو بھی سراہا گیا
اجلاس میں افغان حکومت کے پالیسی فریم ورک کی تشکیل اور ایکشن پلان کی بھی تعریف کی گئی اوران اقدامات پرعملدرآمد کے لیےحمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیاجبکہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہی پروگرامزکے ذریعے افغان پناہ گزین کو آگاہ کرنے کی بھی درخوااست کی گئی۔
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہریارآفریدی نے کہا کہ یہ پاکستان،افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کے لیے نہایت اہم دن ہے جس میں ان کے خدشات اور باعزت طریقے سے واپسی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت ہوئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا میں بھر تقریباً 85 فیصد مہاجرین کی دیکھ بھال ترقی پذیر ممالک کررہے ہیں جس میں پاکستان بھی شامل ہے،تاہم ترقی یافتہ ممالک کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردارادا کرنےکے لیے آگے آنا چاہیے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.