افغان سرزمین کسی کےخلاف استعمال نہ ہونے دینے پر اتفاق

افغان امن مذاکرات کے بعد سیکورٹی اور دوسرے اداروں میں اصلاحات، افغانستان میں غیر ملکی مداخلت اور افغان سر زمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرانے اور اسلامی بنیادی قوانین کا احترام اور پاسداری افغانستان کے ہر علاقے میں یقینی بنانے پر کانفرنس کے تمام شرکاء نے اتفاق کیا ہے۔ کانفرنس میں عباس ستانکزئی کی سربراہی میں طالبان قطر سیاسی دفتر کے وفد اور افغان سابق صدرحامد کرزئی کی سربراہی میں افغان رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ ماسکو کانفرنس میں یہ بات بھی طے پائی کہ اگلی امن کانفرنس قطر میں ہوگی۔ افغان طالبان کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے کو فوجیوں کے پُر امن انخلاء اور افغانستان کی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری طرف امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوج کی واپسی کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا، سنا ہے کچھ طالبان ذاتی طورپر ایسا دعوٰی کر رہے ہیں ،امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے روٹ میپ پر اتفاق رائے ہو گیا جس سے افغانستان میں قیام امن کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.