افغانیوں پر جنگ مسلط کی گئی،100سال تک لڑسکتے ہیں

افغان طالبان کے قطر میں مذاکرات کار شیر محمد عباس سٹینکزئی نے کہاہے کہ افغان قوم لڑنا نہیں چاہتی تھی لکین امریکا نے ہم پر جنگ مسلط کی،،،چاہیں تو واشنگٹن کے ساتھ سو سال تک لڑسکتے ہیں لیکن ہم ملک میں امن کی خواہش رکھتے ہیں اس لئےاب بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کرنےکو تیار ہیں۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں روسی ٹی وی آر ٹی کو دیئے گئے انٹرویومیں طالبان رہنما نےکہا کہ امریکا کے ساتھ امن معاہدہ آخری مراحل میں تھا اور اس پر صرف دستخط ہونا باقی تھےلیکن عین اس موقع پر امریکی صدر نے یکطرفہ طورپر امن مذاکرات ختم کر دیئے ، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام نہایت غیرمناسب تھا لیکن ہم نے اب تک بات چیت کے دروازے بند نہیں کئےجو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں۔کار شیر محمد عباس سٹینکزئی کا کہنا تھا کہ امریکا چاہے تو پھر سے بات چیت کا عمل شروع کرسکتا ہے کیونکہ افغان تنازع کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد مقامی رہنماؤں اور افغان حکومت سے بھی بات چیت کرسکتے ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.