افغانستان میں امن مذاکرات کو بریک

امریکی صدر کاطالبان سے مذاکرات کی منسوخی کا اعلان ،،،،،طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کی جان اور مال کا ہوگا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اُنھوں نے گزشتہ 18 سال کی جدوجہد میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، وہ کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ اس ہدف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان وفد کو دورہ امریکا کی دعوت امریکی نمائندہ خصوصی زلمی خلیل زاد نے اگست کے آخر میں دی تھی جسے امن معاہدے پر دستخط کرنے تک ملتوی کیا گیا تھا ۔۔انہوں نے بتایا کہ طالبان امریکا کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ امن معاہدے کے باضابطہ اعلان کے لیے تیاریوں میں مصروف تھے جبکہ 23 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کا پہلا دن مقرر کیا تھا۔ واضح رہے کہ اب تک امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں امن عمل کیلئے 9 مذاکرات ہوئے جن کا اہتمام دوحہ میں کیا گیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.