اصغرخان عملدرآمد کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ ‘ایف آئی اے نے فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کر دیں’۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھاکہ ‘اصغر خان نے اتنی بڑی کوشش کی تھی، لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کر دیئے، ہم اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس کیس کی مزید تحقیقات کرائیں گے’۔
انتیس دسمبر 2018 کو ہونے والی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم گذشتہ روز مرحوم اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے درخواست کی کہ یہ کیس بند نہیں ہونا چاہیے۔آج سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم ایف آئی اے سے جواب طلب کریں گے جبکہ کابینہ سے بھی جواب مانگیں گے کیونکہ کچھ افراد کے مقدمات کابینہ کو دیئے گئے تھے’۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے اصغر خان کے اہلخانہ کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ‘آپ عدالت کی معاونت کریں کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے’۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں’۔۔سماعت کے آخر میں عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اصغر خان کے ورثاء کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا۔ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.